NIKKAH ( AEK SUNHERA DOUR)



ایک سنہرا دور جو کہ کتابوں میں بند ہو کر رہ گیا ہے جب نکاح آسان اور زنا مشکل ترین کام تھا ، جب صرف اللہ کے احکام اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو پورا کرنے کے لیے نکاح کیا جاتا تھا ،گناہوں سے بچنے کے لیے نکاح کیا جاتا تھا برات اور دیگر ایسی ہی فضول رسومات اس  زمانے میں پیدا ہوئی ہی نہیں تھی۔
یہ تو آج کے مسلمان کی ایجاد ہے۔معاشرے میں موجود ہر برائی کا اکلوتا ذمہ دار انسان ہے لیکن بحیثیت مسلمان ہمیں ایک ایسا خوبصورت دین ملا ہے کہ جس میں دنیا میں موجود ہر طرح کے موضوع کے مسائل کا حل موجود ہے اس دین نے بندہ مومن کی ہر طرح سے ہر معاملے میں باقاعدہ رہنمائی کی ہے۔ 
ہمارے اس موجودہ معاشرے کا سب سے اہم مسئلہ شادی ہے یعنی کہ نکاح جس کے متعلق کئی طرح کے سوال اٹھتے ہیں؟ 
موجودہ دور کا حال یہ ہے کہ اگر آپ کسی کو شادی کرنے کا مشورہ دیں تو وہ آپ سے یہ ضرور کہے گا کہ یہ کام اتنا آسان نہیں؟ جبکہ اگر دیکھا جائے تو ہمارے دین نے ہمیں سب سے آسان طریقہ نکاح کے لیے فراہم کیا ہے۔
نکاح اللہ تعالی کا حکم بھی ہے اور انبیائے کرام علیہ السلام کی سنت بھی لیکن  یہ بھی حقیقت ہے کہ اس حکم پر عمل پیرا ہونا نہایت مشکل ہوگیا ہے اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ ہم انبیائے کرام علیہ السلام کی سنت تو  پوری کر رہے ہیں لیکن اس سنت کو پورا کرنے کے طریقے کار کو نہیں اپنا رہے جو انبیائے کرام علیہ السلام نے اپنایا تھا اور نتیجتاً ہماری عزت، نفس اور نسل کی حفاظت کا یہ آسان طریقہ کار نہایت مشکل بنتا جا رہا ہے کیونکہ اس معاشرے کی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے یہاں اللّٰہ سے زیادہ لوگوں کی مانی جاتی ہے اللہ کے کام سے زیادہ لوگوں کی سوچ کی پرواہ کرتے ہیں اور اللہ کے ڈر سے زیادہ انسانوں کے ڈر کو دل و دماغ پر سوار کر لیتے ہیں۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ:
حضرت ابو ہریرہ رحمۃ اللہ علیہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا عورت سے نکاح چار باتوں کی وجہ سے کیا جاتا ہے:
اس کی مالی حیثیت کو دیکھ کر، اس کے خاندان کی بلند ی اور اعزاز کی وجہ سے، اس کے حسن و جمال اور خوب صورتی کو دیکھ کر، اس کی دین داری ، اخلاق حمیدہ کو دیکھ کر ۔
(مشکوة شریف، ص237/ج2)

تم دین داری،اخلاق کی عمدگی کو ترجیح دو،تمہاری زندگی خوش حالی کے ساتھ گذرے گی۔

لہٰذا آج کل لوگ مال داری کو دیکھتے ہیں، کچھ لوگ اونچے خاندان میں شادی کرنا باعث عزت سمجھتے ہیں ،اکثر نوجوانی، خوب صورتی پر مرتے ہیں ،حضور 

صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
 تم دین داری کو اختیار کرو، اگر اپنی زندگی میں دائمی چین، سکون ،راحت و اطمینان ،عزت، برکت چاہتے ہو تو سیرت کو دیکھو، مال و جمال ،خاندان کو نہ دیکھو۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام جہانوں کی بادشاہی کے باوجود بھی اپنی حیات مبارکہ نہایت ہی سادہ انداز میں گزاری کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے لئے تمام معاملات میں آسانیاں پیدا ہوں ۔
 اسی طرح نکاح کے معاملات بھی نہایت آسان تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کسی بھی طرح کی بارات کیوں کوئی کونسیپٹ موجود نہیں تھا ،کوئی ڈھیروں  قسم کے لوازمات کا اہتمام نہیں کیا جاتا تھا،دکھاوے کے لیے کسی طرح کے کوئی رسم و رواج موجود نہ تھے،صرف ایک سادہ سا نکاح معاشرے کی بھلائی، اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل، گناہوں سے بچاؤ، امت مسلمہ کی آسانی کے لئے کیا جاتا تھا۔
 نکاح کو آسان بنانے اور زنا کو مشکل ترین بنانے کے لیے یہ بہترین طریقہ کار ہے۔
 جب کہ ہم اپنے زمانے کو بالکل الٹ طریقے سے تعمیر کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس کی بنیادیں ہی کچی ہو گئ ہیں اور ہمارے بنائے ہوئےطرح طرح کے رسم رواج نے اس نظام کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔

اس مسئلے کے بہت سے پہلو ہیں جن پر روشنی ڈالنا ازحد ضروری ہے۔
 سب سے پہلے تو بچوں کے نکاح میں تاخیر کی ایک بڑی اور اہم وجہ آج کل شادیوں کی تقریبات میں نمود و نمائش کا بے پناہ اضافہ ہے۔ موجودہ دور میں نوّے سے پچانوے فی صد لوگ نمائش کے بے حد پروردہ دکھائی دیتے ہیں۔ وہ سادگی جس کی اسلام اور قرآن و سنت میں تلقین کی گئی ہے، ڈھونڈنے سے بھی شاید ہی کہیں دکھائی دیتی ہے۔ ورنہ تو یہ ہر کوئی نمود و نمائش کو ضروری سمجھ کر اسے بہ خوشی اپنائے ہوئے ہے۔ ہفتوں بلکہ مہینوں چلنے والی نمود و نمائش سے بھرپور شادی کی تقریبات اسلامی تعلیمات کے بالکل منافی ہیں اور نکاح جیسی سادہ رسم سے ان کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔
اس کی روشنی میں جہیز جیسی لعنت ہے جیسے سے عام رسم و رواج میں شامل کرلیا گیا ہے 
اس بھاری بھرکم رسم کو اس قدر عام کردیا گیا ہے کہ کچھ لوگ تو اسے حق کی طرح مانگتے ہیں حالاں کہ دین اسلام میں جہیز کا تصور بالکل ہی مختلف شکل میں ملتا ہے۔ نبی کریم ؐ کی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ اور حضرت علیؓ کی شادی اس کی ایک بہت بڑی مثال ہے، جس میں نکاح سے پہلے نئے جوڑے کی ضروریات زندگی کا سامان حضرت علیؓ کی زرہ بیچ کر خریدا گیا تھا جوکہ نہایت ہی مختصر اشیا پر مشتمل تھا۔

تیسری اہم  وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں عام طور پر خوب سیرتی کی جگہ خوبصورتی کو تلاش کیا جاتا ہے اور ایسی ایسی خوبیوں کی ڈیمانڈ کی جاتی ہے کہ ان تمام خواہشات کے ساتھ ایک پرفیکٹ ذات کا ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔

جبکہ چو تھی وجہ رشتے کرتے ہوئے کاروباری نقطہ مدنظر رکھنا اور لڑکے یا لڑکی کے والدین یا خاندان سے کاروباری یا دیگر فوائد حاصلِ کرنا بھی اس معاشرے میں رشتے کرتے ہوئے اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے۔
ان تمام مسائل کے ساتھ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی یہ سنت آسان ہونے کے بجائے مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

قرآن کریم سے یہ ثابت ہے کہ لڑکیاں لڑکوں کے بالغ ہونے پر نکاح کے بندھن میں باندھ  دیا جائے تاکہ وہ اپنی تمام ضروریات ایک پاک بندھن میں رہتے ہوئے پوری کرسکیں۔
لیکن افسوس اوپر لکھی گئی تمام وجوہات کی بنا پر نکاح کی جگہ زنا عام ہوتا جا رہا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق مسلمان کو شادی کرنے کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے: ’’حق مہر‘‘ اور ’’ولیمہ‘‘۔ آپؐ نے فرمایا: ’’جس کے پاس ان دونوں چیزوں کا اپنی حیثیت کے مطابق انتظام ہو وہ نکاح کرنے میں ذرا بھی تاخیر نہ کرے۔

 نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم تو ہمیں اس بات کا دَرْس دیتےہیں کہ جب کوئی ایسا شخص تمہیں نکاح کا پیغام دے جس کا دین اور اَخلاق تمہیں پسند ہو تو اس سے (اپنی لڑکی کا) نکاح کردو۔ اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ پیدا ہوگا اور بہت بڑا فساد برپا ہوگا۔
 (ترمذی،ج2،ص344،حدیث:1086)

Post a Comment

0 Comments